نمازِ تہجد کی اہمیت اور فضیلت
نمازِ تہجد — جسے قیامُ اللیل یا رات کی نماز بھی کہا جاتا ہے — تمام نوافل میں سب سے اعلیٰ اور افضل نماز ہے۔ فرض نمازوں کے بعد کوئی نماز اس کے درجے کو نہیں پہنچتی۔ یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ رات کی میٹھی نیند کو چھوڑنا اور گرم بستر سے اُٹھ کر اللہ پاک کے حضور سجدہ ریز ہونا انسانی طبیعت پر بہت گراں گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرائض کے بعد رات کی پچھلی گھڑیوں میں عبادت کو سب سے زیادہ افضل قرار دیا — کیونکہ جب قربانی بڑی ہو تو رب کی مہربانی بھی اسی قدر بڑی ہوتی ہے۔
آئیے تہجد کی فضیلت کو قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی کی روشنی میں تفصیل سے جانتے ہیں۔
تہجد کی فضیلت قرآنِ مجید میں
نمازِ تہجد، صلوۃُ اللیل (رات کی نماز) کی ایک قسم ہے۔ فرق یہ ہے کہ تہجد کے لیے پہلے سونا شرط ہےپھر اُٹھ کر نماز پڑھی جائے۔ اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں اپنے محبوب بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَالَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّ قِیٰمًا ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے لئے سجدے اور قیام میں۔
ایک اور مقام پر اللہ پاک نے ان مقبول بندوں کی شان بیان کی جن کے پہلو رات کو بستروں سے جدا رہتے ہیں:
تَتَجَافٰی جُنُوۡبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ترجمۂ کنز الایمان: ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے۔
کن بندوں سے اللہ پاک سب سے زیادہ خوش ہوتا ہے؟
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:
"ہمارا رب دو شخصوں سے بہت خوش ہوتا ہے — ایک وہ شخص جو اپنے گرم بستر، اپنے لحاف اور اپنے پیاروں کے درمیان سے اُٹھ کر نماز کے لیے کھڑا ہو جائے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے اس بندے کو دیکھو! میرے ثواب کی رغبت اور میرے عذاب کے خوف نے اسے بستر سے جدا کر دیا۔" (معجم کبیر)
نمازِ تہجد کے فضائل — فرامینِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
تہجد احادیث کی روشنی میں نمازِ تہجد کی فضیلتیں ملاحظہ فرمائیں:
﴿۱﴾ دعا کی قبولیت کی خاص ساعت: بے شک رات میں ایک ایسی مبارک گھڑی ہے جس میں مسلمان بندہ جب اللہ کریم سے دنیا و آخرت کی کوئی بھی بھلائی مانگتا ہے تو اللہ کریم اسے ضرور عطا فرماتا ہے — اور یہ مبارک ساعت ہر رات آتی ہے۔ (صحیح مسلم)
﴿۲﴾ فرض کے بعد سب سے افضل نماز: حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: "رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ پاک کے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات میں پڑھی جانے والی نماز (تہجد) ہے۔" (صحیح مسلم)
﴿۳﴾ جنت میں شیشے کے محلات: حضرت سیدنا ابو مالک اشعری رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے کہ رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: "بے شک جنت میں ایسے شفاف محلات ہیں جن کا آرپار نظر آتا ہے۔ اللہ پاک نے وہ محلات ان لوگوں کے لیے تیار کیے ہیں جو محتاجوں کو کھانا کھلاتے ہیں، سلام کو عام کرتے ہیں اور رات کو جب دنیا سوئی ہوئی ہو، نماز (تہجد) پڑھتے ہیں۔" (صحیح ابن حبان)
﴿۴﴾ میاں بیوی کا تہجد پڑھنا: جو شخص رات میں بیدار ہو اور اپنی زوجہ کو بھی جگائے، پھر دونوں دو دو رکعت نماز پڑھیں — تو وہ دونوں کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والوں میں لکھے جائیں گے۔ (مستدرک للحاکم)
﴿۵﴾ امت کے بہترین لوگ: " میری امت کے بہترین لوگ حاملینِ قرآن اور رات کو جاگ کر اللہ پاک کی عبادت کرنے والے ہیں۔" (الترغیب والترہیب)
﴿۶﴾ قیامت میں فقیر نہ بنو: سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: "رات کو زیادہ نہ سویا کرو — کیونکہ رات کو بہت سونے والا بروزِ قیامت (نیکیوں کے اعتبار سے) فقیر ہوگا۔" (تذکرۃُ الحفّاظ)
تہجد اور بزرگانِ دین
حضرت سیِّدُنا امام جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کو بعد از وصال کسی نے خواب میں دیکھا اور پوچھا: اے ابو القاسم! آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ آپ نے فرمایا:
"علمی ابحاث اور علمی نکات کی باریکیاں کسی کام نہ آئیں — مگر رات کی تنہائی میں ادا کی جانے والی نمازِ تہجد نے خوب فائدہ پہنچایا۔" (بیٹے کو نصیحت)
حضرت سیِّدُنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے پوچھا گیا: تہجد گزار لوگوں کے چہرے دوسروں سے زیادہ نورانی اور خوبصورت کیوں ہوتے ہیں؟ فرمایا:
"وہ اللہ پاک کے لیے رات کی تنہائی اختیار کرتے ہیں تو اللہ پاک انہیں اپنے نور کا لباس پہنا دیتا ہے۔" (بحر الدموع)
امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نمازِ تہجد اس قدر پابندی سے ادا فرماتے کہ اگر کبھی کسی وجہ سے رہ جاتی تو اس قدر پریشان ہوتے کہ بیمار پڑ جاتے۔ (مدنی آقا کے روشن فیصلے)
تہجد کی توفیق کیوں نہیں ملتی؟
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی بارگاہ میں عرض کی گئی: ہم رات کو نماز کے لیے نہیں اُٹھ پاتے۔ فرمایا:
"تمہارے گناہوں نے تمہیں اپاہج بنا دیا ہے۔"
حضرت سیِّدُنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے عرض کی گئی: ہم سے رات کا قیام نہیں ہو پاتا۔ فرمایا:
"گناہوں نے تمہارے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دی ہیں۔"
یہ ارشادات ہمیں بتاتے ہیں کہ نمازِ تہجد کی توفیق دراصل گناہوں سے بچنے اور توبہ کرنے سے ملتی ہے — جو دن میں معاصی سے اجتناب کرتا ہے، اللہ پاک اسے رات کی قیمتی گھڑیوں میں اپنے حضور بلاتا ہے۔
نمازِ تہجد — قُربِ الٰہی کا سب سے بڑا ذریعہ
قارئینِ کرام! نمازِ تہجد ایک ایسی قیمتی عبادت ہے جس کا کوئی متبادل نہیں۔ رات کے اندھیرے میں جب دنیا غفلت کی نیند سو رہی ہو، نفس بستر چھوڑنے پر ہرگز راضی نہ ہو — ایسے میں جو بندہ اپنی نیند اور آرام کی قربانی دے کر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتا ہے، وہ اللہ پاک کے نزدیک بہت بڑا مقام حاصل کر لیتا ہے۔
احادیثِ مبارکہ کے مطابق تہجد گزار بندہ اللہ پاک کے قُرب کی سب سے بڑی دولت پاتا ہے۔ اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں، اس کا چہرہ نورانی ہوتا ہے اور قیامت کے روز وہ نیکیوں کی دولت سے مالا مال ہوگا۔
اللہ پاک ہمیں نمازِ تہجد کی پابندی نصیب فرمائے۔ آمین بجاہِ سیِّدِ الاوّلین والآخرین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ماخذ: صحیح مسلم | صحیح ابن حبان | مستدرک للحاکم | معجم کبیر | تذکرۃُ الحفّاظ | الترغیب والترہیب | بحر الدموع | مدنی آقا کے روشن فیصلے
Pakistan