۔ حلال غذا کی اہمیت اور غذا کے روحانی اثرات
حلال اور پاکیزہ غذا کا کھانا شرعی فریضہ ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا:
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا (البقرہ: 168)
ترجمہ کنز العرفان : اے لوگو! جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اس میں سے کھاؤ۔
حلال غذا کے روحانی اثرات میں شامل ہیں:
• دعاؤں کی قبولیت میں اضافہ
• عبادات میں رغبت اور لذّت
• دل کی صفائی اور روحانی پاکیزگی
• برے خیالات اور گناہوں سے بچاؤ
• حرام غذا عبادات کی تاثیر کو کم کردیتی ہے
حلال و طیب کی وضاحت
حلال: وہ چیز جسے شریعت نے جائز قرار دیا ہو۔
طیب: وہ چیز جو پاکیزہ ہو، صاف ہو، اور طبیعت اسے قبول کرے۔
اسلام میں صرف حلال کافی نہیں، بلکہ طیب یعنی پاکیزہ بھی ہونا ضروری ہے۔
۲۔ کسی چیز کے ممنوع ہونے کے اسباب
فقہائے کرام نے کسی چیز کے ممنوع یا مکروہ ہونے کی درج ذیل وجوہات بیان فرمائی ہیں:
(الف) مضرّت (Harmfulness)
جو چیزیں انسانی جسم کے لیے نقصاندہ ہوں انہیں کھانا ممنوع ہے۔ ایسی اشیاء کا استعمال جو بیماری یا تکلیف کا باعث بنے، شرعاً ناجائز ہے۔
(ب) نشہ آور ہونا (Intoxicating)
جو چیزیں نشہ پیدا کریں یا عقل کو متاثر کریں، ان کا کھانا پینا حرام ہے۔
(ج) نجاست (Impurity/Filthiness)
جو اجزاء نجس ہوں یا جن میں نجاست شامل ہو، ان کا کھانا جائز نہیں۔
(د) جزوِ انسانی ہونا (Being a Human Body Part)
انسانی جسم کا کوئی بھی حصہ کھانا ممنوع ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تکریم بخشی ہے۔
(ہ) استخباث / استقذار (Foulness)
وہ اشیاء جنہیں پاکیزہ طبیعت والے لوگ قابلِ نفرت سمجھتے ہوں، انہیں کھانا مکروہ ہے۔ فقہاء کرام نے فرمایا کہ عرب کے نیک، متقی اور صاف طبیعت والے لوگوں کی پسند و ناپسند معیار ہے۔
۳۔ ۲۲ مکروہ اجزاء کی تفصیل
کتاب میں ۲۲ ایسے اجزاء کا تفصیلی تذکرہ ہے جن کا کھانا مکروہ تحریمی یا حرام ہے:
(۱) دمِ مسفوح — رگوں کا بہتا ہوا خون (Flowing Blood)
شرعی حکم: حرام
قرآن مجید میں ارشاد:
حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ (المائدہ: ۳)
ترجمہ: م پر حرام کردیا گیا ہے مردار اور خون۔
بہتے خون کے طبی نقصانات:
• خون میں جراثیم اور نقصاندہ مادے پائے جاتے ہیں
• یہ انسانی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے
• بعض موذی امراض کی منتقلی کا ذریعہ بن سکتا ہے
نوٹ: ذبح کے بعد گوشت میں جو معمولی سرخی یا رطوبت رہ جائے وہ معاف ہے، صرف بہنے والا خون حرام ہے۔
(۲) پِتّا (Gallbladder)
شرعی حکم: مکروہ تحریمی
پِتّا جانور کے جگر کے ساتھ لگی ہوئی تھیلی ہے جس میں تلخ اور ناپاک رطوبت ہوتی ہے۔ فقہاء کرام نے اسے ممنوعہ اجزاء میں شامل کیا ہے۔
(۳) پُھکنا / مثانہ (Bladder)
شرعی حکم: مکروہ تحریمی
یہ وہ تھیلی ہے جس میں پیشاب جمع ہوتا ہے۔ اس کا کھانا ممنوع ہے کیونکہ یہ نجاست کا مقام ہے۔
(۴) فَرَج — مادہ جانور کی شرمگاہ (Private Part of Female Animal)
شرعی حکم: مکروہ تحریمی
پاکیزہ طبیعت والے اسے قابلِ نفرت سمجھتے ہیں، اور فقہاء نے اسے ممنوعہ قرار دیا ہے۔
(۵) ذَکَر — نر جانور کی شرمگاہ (Private Part of Male Animal)
شرعی حکم: مکروہ تحریمی
وہی وجوہات جو فَرَج کے لیے ہیں، ذَکَر پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔
(۶) کپورے (Testicles)
شرعی حکم: مکروہ تحریمی
استقذار (قباحت) اور پاکیزہ طبیعت کی ناپسندیدگی کی وجہ سے یہ ممنوع ہیں۔
(۷) غدود (Abnormal Lump / Glands)
شرعی حکم: مکروہ تحریمی
غدود جانور کے جسم میں پائے جانے والے وہ اجزاء ہیں جو عموماً گوشت کے اندر چھپے ہوتے ہیں۔ یہ بیماریوں کا مرکز ہو سکتے ہیں اور ان کا کھانا ممنوع ہے۔
(۸) پِت / صفرا (Bile)
شرعی حکم: مکروہ تحریمی
یہ جگر سے نکلنے والا تلخ پیلا مادہ ہے، جو نجس اور ناپاک ہے۔
(۹) دُبُر — پاخانہ کا مقام (Anus)
شرعی حکم: مکروہ تحریمی
نجاست کا مقام ہونے کی وجہ سے اس کا کھانا ممنوع اور قابلِ نفرت ہے۔
(۱۰) اوجھڑی / کِرْش (Tripe)
شرعی حکم: مکروہ تحریمی (اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے فتوے کے مطابق)
اوجھڑی جانور کا معدہ ہے۔ کتاب میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ:
• کیا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے پہلے کسی نے اوجھڑی کی ممانعت کا فتوی دیا؟
• ساسیج (Sausage) کھانے کا حکم — چونکہ اس میں اوجھڑی استعمال ہوتی ہے
• بَٹ اور اوجھڑی میں فرق
• مرغی کا پوٹا کھانے کا حکم
(۱۱) آنتیں / امعاء (Intestines)
شرعی حکم: مکروہ تحریمی
آنتیں غذا ہضم کرنے کا مقام ہیں اور ان میں نجس مادے ہوتے ہیں، اس لیے ان کا کھانا ممنوع ہے۔
(۱۲ تا ۱۵) گوشت، جگر، تِلّی اور دل کے خون کا حکم
(۱) گوشت کا خون (Meat Blood)
ذبح کے بعد گوشت سے جو خون نکلے وہ حرام ہے، البتہ پکانے کے بعد گوشت میں جو سرخی رہ جائے وہ معاف ہے۔
(۲) جگر (کلیجی) کا خون (Liver Blood)
جگر سے نکلنے والا خون حرام ہے۔ جگر خود حلال ہے لیکن اس سے نکلنے والے بہتے خون کا استعمال ممنوع ہے۔
(۳) تِلّی کا خون (Spleen Blood)
تِلّی خود حلال ہے، لیکن اس سے نکلنے والا خون حرام ہے۔
(۴) دل سے نکلنے والا خون (Heart Blood)
دل خود حلال ہے لیکن ذبح کے بعد دل سے نکلنے والا خون حرام ہے۔
(۱۶) مخاط / ناک کی رطوبت (Nasal Mucus)
شرعی حکم: مکروہ تحریمی
استقذار اور نجاست کی وجہ سے ممنوع ہے۔
(۱۷) نطفہ / مادۂ منویہ (Semen)
شرعی حکم: مکروہ تحریمی
یہ نجس ہے اور اس کا کھانا ممنوع ہے۔
(۱۸) عَلَقہ (Blood Clot)
شرعی حکم: حرام
جما ہوا خون جو جنین کی ابتدائی حالت ہے، اس کا کھانا حرام ہے۔
(۱۹) مُضغہ (Lump of Flesh)
شرعی حکم: مکروہ تحریمی
یہ جنین کی وہ حالت ہے جب وہ گوشت کے لوتھڑے کی مانند ہو۔
(۲۰) مردہ بچہ / جنین میت (Dead Fetus)
شرعی حکم: حرام
جو بچہ مادہ جانور کے پیٹ میں مردہ ہو، اسے کھانا حرام ہے۔
(۲۱) گردن کے دو پٹھے (Two Tendons of the Neck)
شرعی حکم: مکروہ تحریمی
یہ وہ سفید رگیں ہیں جو گردن میں ریڑھ کی ہڈی کے دونوں اطراف ہوتی ہیں۔ پکانے پر نہ گلنے کی وجہ سے یہ ممنوع ہیں۔
(۲۲) نخاع الصُّلب / حَرام مَغْز (Spinal Cord)
شرعی حکم: مکروہ تحریمی
یہ ریڑھ کی ہڈی کے اندر موجود مادہ ہے۔ فقہاء کے نزدیک اس کا کھانا مکروہ ہے۔
۴۔ چند مزید اجزاء کے احکام
جانور کے گردے (Kidneys)
گردے حلال ہیں۔ انہیں کھانا جائز ہے، البتہ بعض فقہاء نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
طحال / تِلّی (Spleen)
تِلّی حلال ہے اور کھانا جائز ہے۔ حدیث میں بھی تِلّی کو حلال قرار دیا گیا ہے۔
جانور کے پھیپھڑے (Lungs)
پھیپھڑے حلال ہیں اور کھانا جائز ہے۔
جانور کا مغز (Brain)
دماغ کا گوشت حلال ہے اور کھانا جائز ہے۔
مادہ جانور کا رحم / بچہ دانی
اس کے بارے میں فقہی تفصیل کتاب میں موجود ہے۔ بعض فقہاء نے اسے بھی ممنوعہ یا مکروہ اجزاء میں شامل کیا ہے۔
مرغی کی دُمچی (Chicken Tail)
مرغی کی دُمچی (وہ حصہ جہاں سے پر نکلتے ہیں) کے بارے میں فقہاء نے کہا ہے کہ اس میں ایک غدود ہوتا ہے جو ممنوع ہے، لہٰذا اس غدود کو علیحدہ کر کے باقی حصہ کھانا جائز ہے۔
مرغی کا گوشت کھال سمیت کھانا
مرغی کی کھال سمیت گوشت کھانا جائز ہے۔
گائے، بھینس، بکری وغیرہ کی کھال
ذبح شدہ حلال جانور کی کھال کو کھانا جائز ہے، البتہ عادتاً نہیں کھائی جاتی۔
گائے، بھینس، بکری وغیرہ کے پائے
پائے کھانا حلال اور جائز ہے۔ یہ ایک مقبول اور مروّج غذا ہے۔
مرغی کے پنجے
مرغی کے پنجے کھانا بھی جائز ہے، بشرطیکہ اچھی طرح صاف کیے گئے ہوں۔
جانور کی ہڈّی
ہڈّی کا گودا کھانا جائز ہے۔ ہڈّی کو چبانا یا اس کا سوپ پینا بھی جائز ہے۔
۵۔ ۲۲ ممنوعہ اجزاء کا حکم — ایک نظر میں
درج ذیل جدول میں تمام ۲۲ ممنوعہ اجزاء کی فہرست اور ان کا شرعی حکم یکجا پیش کیا گیا ہے:
1. دمِ مسفوح (بہتا خون) — حرام
2. پِتّا — مکروہ تحریمی
3. پُھکنا / مثانہ — مکروہ تحریمی
4. فَرَج (مادہ کی شرمگاہ) — مکروہ تحریمی
5. ذَکَر (نر کی شرمگاہ) — مکروہ تحریمی
6. کپورے — مکروہ تحریمی
7. غدود — مکروہ تحریمی
8. پِت / صفرا — مکروہ تحریمی
9. دُبُر (پاخانہ کا مقام) — مکروہ تحریمی
10. اوجھڑی / کِرْش — مکروہ تحریمی
11. آنتیں — مکروہ تحریمی
12. گوشت کا خون — حرام
13. جگر کا خون — حرام
14. تِلّی کا خون — حرام
15. دل کا خون — حرام
16. مخاط / ناک کی رطوبت — مکروہ تحریمی
17. نطفہ / مادۂ منویہ — مکروہ تحریمی
18. عَلَقہ (جما ہوا خون) — حرام
19. مُضغہ (گوشت کا لوتھڑا) — مکروہ تحریمی
20. مردہ بچہ / جنین میت — حرام
21. گردن کے دو پٹھے — مکروہ تحریمی
22. نخاع الصُّلب / حرام مغز — مکروہ تحریمی
س کتاب اور اس سے متعلقہ فقہی مسائل کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے لیے آپ نیچے دیے گئے لنک پر جا سکتے ہیں، جہاں مکتبۃ المدینہ کی مستند کتب دستیاب ہیں
https://maktabatulmadinah.com/
Pakistan