عام طور پر ایک ہی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے اپنے ہی زمانے کے کسی دوسرے شخص کی تعریف کرنا آسان نہیں ہوتا۔ مثلاً: ایک مشہور ڈاکٹر کسی دوسرے ڈاکٹر کی ، ایک مقرر کسی دوسرے مقرر کی، یا ایک پروفیسر کسی دوسرے پروفیسر کی تعریف کم ہی کرتا ہے۔ اسی طرح مختلف شعبوں کے ماہرین بھی اپنے جیسے کسی دوسرے ماہر کی تعریف کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ بعض اوقات تو وہ اپنے سامنے کسی دوسرے کی تعریف سننا بھی پسند نہیں کرتے۔
جو لوگ خود علم، مقام، عزت اور شہرت رکھتے ہوں، ان کے لیے کسی دوسرے کی قابلیت، علم اور مرتبے کو کھلے دل سے تسلیم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن اگر بڑے علماء، دانشور، مفکرین اور مشہور شخصیات کسی کی تعریف کریں تو یہ اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ وہ شخصیت واقعی غیر معمولی صلاحیتوں کی مالک ہے اور اللہ پاک نے اسے خاص فضل و کرم سے نوازا ہے۔
امامِ اہلِ سنت، امامِ عشق و محبت، مجددِ دین و ملت، الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ بھی ایسی ہی عظیم شخصیت تھے۔ آپ اپنی ذات میں ایک مکمل علمی ادارہ تھے۔ آپ کے علم، قابلیت اور دینی خدمات کا اعتراف صرف آپ کے ماننے والوں نے ہی نہیں کیا بلکہ مخالفین، معاصرین اور بعد میں آنے والے اہلِ علم نے بھی کیا۔ دنیا کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے آپ کی علمی عظمت کو تسلیم کیا۔
ذیل میں چند اہم شخصیات کے تاثرات پیش کیے جا رہے ہیں۔
مکہ مکرمہ کے علماء کی آراء
شیخ عبد الرحمن دَھَّان مکی رحمۃ اللہ علیہ
شیخ عبد الرحمن دہان مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"وہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ جن کے متعلق مکہ مکرمہ کے علمائے کرام گواہی دے رہے ہیں کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سرداروں میں یکتا و تنہا ہیں۔"
حوالہ: (تمہید الایمان، ص5)
شیخ احمد ابو الخیر عبداللہ میر داد رحمۃ اللہ علیہ
رئیس الخطباء شیخ احمد ابو الخیر عبداللہ میر داد رحمۃ اللہ علیہ (خطیب مسجد حرام) فرماتے ہیں:
"وہ امام احمد رضا رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ حقائق کا خزانہ ہے اور محفوظ خزانوں کا انتخاب، معرفت کا آفتاب ہیں جو دوپہر کو چمکتا ہے۔ علوم کی ظاہر و باطن مشکلات کھولنے والے ہیں۔ جو شخص اس کے علم و فضل سے واقف ہو اس کو کہنا چاہئے کہ اگلوں پچھلوں کے لئے بہت کچھ چھوڑ گئے ہیں۔"
حوالہ: (تمہید الایمان، ص3)
شیخ علامہ محمد القاسمی رحمۃ اللہ علیہ
شیخ علامہ محمد القاسمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"فضائل و کمالات کے ایسے جامع ہیں جن کے سامنے بڑے سے بڑا چھوٹا ہے۔ وہ فضل کے باپ اور بیٹے ہیں۔ ان کی فضیلت کا یقین دوست اور دشمن دونوں کو ہے۔ ان کا علمی مقام بہت بلند ہے۔ لوگوں میں ان کی مثال بہت کم ہے۔"
حوالہ: (امام احمد رضا اور عالم اسلام، پروفیسر مسعود احمد، ص137)
پاکستان کے علماء اور محققین کی آراء
پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی خان صاحب
پاکستان کے معروف محقق اور دانشور پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی خان صاحب (سابق صدر شعبہ اردو، سندھ یونیورسٹی، سندھ) فرماتے ہیں:
"اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اپنے دور کے بے مثل علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے فضل و کمال، ذہانت و فطانت کے سامنے بڑے بڑے علماء و فضلاء، یونیورسٹی کے اساتذہ و محققین نظروں میں نہیں جچتے۔"
حوالہ: (جہانِ رضا، ص188)
اخبارات کی نظر میں
اخبار "پیسہ"
1921ء میں جب امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ہوا تو لاہور کے مشہور اخبار پیسہ نے ایک تعزیتی نوٹ شائع کیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ برصغیر میں آپ کے علم و فضل کا چرچا عام تھا۔ ادارتی نوٹ میں لکھا گیا:
"آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ہندوستان میں علوم دینیہ اسلامیہ کے آفتاب تھے بڑے فاضل و متبحر، جید عالم تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی وفات سے ہندوستان کی ایسی برگزیدہ ہستی اٹھ گئی جن کا خلا پُر کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔"
حوالہ: (پیسہ اخبار، شمارہ 2، نومبر 1921)
دنیا کے دانشوروں کی نظر میں
پروفیسر غیاث الدین قریشی
پروفیسر غیاث الدین قریشی (نیو کاسل یونیورسٹی، انگلینڈ) لکھتے ہیں:
"امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اپنے وسیع و عمیق علم کے طفیل اپنی ذات میں ایک اسلامی یونیورسٹی کی بلندیاں جمع کرلی ہیں۔"
حوالہ: (رئیس الفقہا، ص5)
مولانا محمد علی جوہر
مولانا محمد علی جوہر لکھتے ہیں:
"اس دور کے مشہور عالم دین امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ واقعی ایک عظیم مسلمان رہنما ہیں۔ ہم ان کی عظیم شخصیت اور دینی رہنما ہونے کا اعتراف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اس دور کے سب سے بڑے محقق، مصنف، ادیب اور مردِ حق ہیں۔ بلا شبہ ایسی ہستیوں کا وجود مسعود ہمارے لئے مرہون منت ہے۔"
حوالہ: (امام احمد رضا خان اکابرین کی نظر میں، ص22)
میاں عبد الرشید
پاکستان کے معروف صحافی اور قلم کار میاں عبد الرشید اپنی انگریزی کتاب پاک و ہند میں اسلام میں لکھتے ہیں:
"حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ برصغیر کی چند غیر معمولی شخصیات میں سے ایک تھے۔ نہایت ذہین، متقی اور فقہ اسلام کے ماہر ہیں۔ ان کا علم ہمہ گیر ہے۔"
حوالہ: (پاک و ہند میں اسلام، مطبوعہ لاہور، 1977)
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی علمیت، فقاہت اور قوتِ فیصلہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
"ہندوستان کے دورِ آخر میں ان جیسا طباع اور ذہین فقیہ پیدا نہیں ہوا، میں نے ان کے فتاویٰ سے یہ رائے قائم کی ہے اور ان کے فتاویٰ ان کی ذہانت، فطانت اور جودتِ طبع، کمال ِفقاہت اور علوم ِدینیہ میں تبحر علمی کے شاہد عادل ہیں۔ مولانا ایک دفعہ جو رائے قائم کر لیتے تھے اس پر مضبوطی سے قائم رہتے تھے۔ یقیناً وہ اپنی رائے کا اظہار بہت غور و فکر کے بعد کیا کرتے تھے۔"
عدالتی اعتماد
جسٹس محمد دین مرحوم
جسٹس محمد دین مرحوم (چیف آف بھاول پور) ایک مقدمے کا فیصلہ نہ کر سکے۔ انہوں نے مختلف مفتیانِ کرام سے آٹھ فتوے حاصل کیے، لیکن پھر بھی مطمئن نہ ہوئے۔ آخرکار انہوں نے ہدایت دی کہ پورا مقدمہ تمام فتووں کی نقول کے ساتھ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں بھیجا جائے تاکہ آپ اس بارے میں اپنا فیصلہ تحریر فرما دیں۔
حوالہ: (فتاویٰ رضویہ، ج 11، ص 196)
حرفِ آخر
یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ عرب و عجم کے بے شمار معروف علماء، مشائخ، ادیب، دانشوروں اور سیاسی شخصیات نے بھی امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے علم اور دینی خدمات کو سراہا ہے۔ بہت سے محققین نے آپ کی شخصیت اور علمی خدمات پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالے بھی تحریر کیے ہیں، اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
فیضانِ رضا ہمیشہ جاری رہے گا۔ ان شاء اللہ الکریم
مزید مطالعہ
امام اہلسنت ، اعلیٰ حضرت کی سیرتِ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے آپ ان کتب و رسائل کا مطالعہ کر سکتے ہیں:
● سیرتِ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ
● تذکرۂ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ
● شانِ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ
یہ تمام کتابیں اور رسائل مناسب قیمت میں مکتبۃ المدینہ پر دستیاب ہیں۔ آج ہی آن لائن آرڈر کریں یا قریبی آؤٹ لیٹ سے طلب فرمائیں۔
Pakistan