والدین کی سب سے اہم ذمہ داریوں میں سے ایک اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنا ہے، خاص طور پر بچپن میں۔ کیونکہ بچپن ہی پوری زندگی کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر بنیاد مضبوط ہو تو پوری زندگی بھی مضبوط اور خوبصورت بنتی ہے۔
بچپن میں سیکھی ہوئی باتیں انسان کو ساری زندگی یاد رہتی ہیں۔ بچے کا ذہن ایک خالی تختی کی طرح ہوتا ہے، جس پر جو کچھ لکھا جائے، وہ محفوظ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بچے کا ذہن نرم مٹی کی مانند ہوتا ہے، جسے جس رخ پر ڈھالا جائے، وہ ویسا ہی بن جاتا ہے۔
اگر والدین قرآن و سنت کے مطابق اپنے بچوں کی تربیت کریں تو وہ معاشرے کے لیے مفید، بااخلاق اور نیک انسان بنتے ہیں۔ لیکن اگر دینی تربیت نہ کی جائے تو وہ خود بھی نقصان اٹھاتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ امامِ اہلِ سنت، حافظ، مفسرِ قرآن، مترجمِ قرآن، عظیم مفتی، مفکرِ اسلام، مجددِ دین و ملت اور سچے عاشقِ رسول، امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے بچپن میں کون سی نمایاں خوبیاں موجود تھیں۔
تبلیغ کا جذبہ
ایک دن مدرسے میں استاد بچوں کو سبق پڑھا رہے تھے۔ انہی بچوں میں ایک نہایت ذہین اور باادب بچہ بھی موجود تھا۔ اس کے چہرے سے نورانیت اور اس کی گفتگو سے سمجھ داری ظاہر ہوتی تھی۔
اسی دوران ایک بچہ آیا اور اس نے سلام کیا۔ استاد نے جواب میں فرمایا:
"جیتے رہو۔"
یہ سن کر اس کم عمر بچے نے ادب کے ساتھ عرض کی:
"پیارے استاد صاحب! سلام کے جواب میں تو وَعَلَیْکُمُ السَّلَام کہنا چاہیے۔"
استاد صاحب اس اصلاح پر ناراض ہونے کے بجائے خوش ہوئے، اپنے ہونہار شاگرد کو دعائیں دیں اور اس کی بات قبول کر لی۔
یہ ذہین اور باادب بچہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا اصل نام
اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلی رحمۃ اللہ علیہ کا اصل نام محمد تھا۔ آپ کے دادا حضرت رضا علی خان نے آپ کو احمد رضا کہہ کر پکارا، اور یہی نام بعد میں مشہور ہوگیا۔ آپ کی والدہ محبت سے آپ کو اَمّن میاں کہا کرتی تھیں۔
ولادت باسعادت
امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ہندوستان کے شہر بریلی کے محلہ جسولی میں 10 شوال 1272 ہجری، بروز ہفتہ، نمازِ ظہر کے وقت، بمطابق 14 جون 1856ء کو ہوئی۔
بچپن کی غیر معمولی ذہانت
امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ بچپن ہی سے بے حد ذہین تھے۔ آپ کا شوقِ مطالعہ اس قدر زیادہ تھا کہ استاد سے صرف کتاب کا تقریباً چوتھائی حصہ پڑھتے، پھر باقی پوری کتاب خود پڑھ لیتے۔ بعد میں پوری کتاب حرف بہ حرف زبانی سنا دیتے تھے۔
غیر معمولی حافظہ
آپ کی یادداشت بھی غیر معمولی تھی۔
● تقریباً چار سال کی عمر میں ناظرہ قرآنِ مجید مکمل کر لیا۔
● چھ سال کی عمر میں ربیع الاول شریف کی ایک تقریب میں منبر پر تشریف لے گئے۔
● بڑے مجمع کے سامنے میلاد شریف کے موضوع پر مدلل تقریر فرمائی۔
● اردو اور فارسی کی کتابیں پڑھنے کے بعد مختلف علوم کی تعلیم حاصل کی۔
بعد میں آپ نے اپنے والد، حضرت مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ سے اکیس علوم حاصل کیے، جن میں شامل ہیں: علمِ قرآن، علمِ تفسیر، علمِ حدیث، اصولِ حدیث، فقہ حنفی، فقہ شافعی، فقہ مالکی، فقہ حنبلی، اصولِ فقہ، جدل مہذب، علم العقائد و الکلام، علم نجوم، علم صرف، علم معانی، علم بیان، علم بدیع، علم منطق، علم مناظرہ، علم فلسفہ مدلسہ، ابتدائی علم تکحیہ، ابتدائی علم ہیئت، علم حساب (جمع، تفریق، ضرب، تقسیم)، اور ابتدائی علم ہندسہ۔
تقریباً 13 سال، 10 ماہ اور 5 دن کی عمر میں، 14 شعبان 1286ھ، بمطابق 19 نومبر 1869ء کو آپ تعلیم مکمل کرکے دستارِ فضیلت سے سرفراز ہوئے۔
بچپن سے ادب کا اعلیٰ نمونہ
جب امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی عمر تقریباً چھ سال تھی تو آپ کو معلوم ہوا کہ بغداد شریف کس سمت میں ہے۔
اس دن کے بعد پوری زندگی آپ نے ادب کی وجہ سے کبھی بغداد شریف کی سمت اپنے پاؤں نہیں پھیلائے، کیونکہ وہ غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا شہر ہے۔
ہمشیرہ کے تاثرات
آپ کی بہن فرماتی ہیں:
امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بچپن میں کبھی پڑھائی کے معاملے میں ضد نہیں کی۔
کوئی کہتا بھی نہیں تھا، پھر بھی خود ہی پڑھنے چلے جاتے تھے۔
جمعہ کے دن بھی پڑھنے جانے کا ارادہ کیا، لیکن والد صاحب نے منع فرمایا تو فوراً رک گئے۔
(حوالہ: حیاتِ اعلٰی حضرت ۔حصہ اول، ص 12)
بچپن ہی سے عبادت کا شوق
امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ بچپن ہی سے نماز کے پابند تھے۔ صرف سات سال کی عمر میں رمضان المبارک کے روزے رکھنا بھی شروع کر دیے تھے۔
بچپن کی ایک حیرت انگیز حکایت
جناب سید ایوب علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ بچپن میں ایک مولوی صاحب گھر آ کر امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کو قرآنِ پاک پڑھاتے تھے۔
ایک دن ایک آیت میں ایک لفظ بار بار پڑھایا جا رہا تھا، مگر آپ کی زبان سے وہ لفظ استاد کے بتائے ہوئے انداز میں ادا نہیں ہو رہا تھا۔
استاد زبر پڑھاتے تھے جبکہ آپ زیر پڑھتے تھے۔
یہ بات آپ کے دادا حضرت مولانا رضا علی خان رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھی۔ انہوں نے قرآنِ پاک منگوایا تو معلوم ہوا کہ لکھنے والے سے غلطی ہوگئی تھی۔ زیر کی جگہ زبر لکھ دیا گیا تھا۔
یعنی امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ صحیح پڑھ رہے تھے۔
دادا جان نے پوچھا:
"بیٹے! مولوی صاحب جس طرح پڑھاتے تھے، تم ویسے کیوں نہیں پڑھتے تھے؟"
آپ نے عرض کیا:
"میں ایسا کرنے کا ارادہ کرتا تھا مگر زبان پر قابو نہ پاتا تھا۔"
استاد کی حیرت
امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ خود فرماتے تھے:
"میرے استاد جن سے میں ابتدائی کتاب پڑھتا تھا، جب مجھے سبق پڑھا دیا کرتے، میں ایک دو مرتبہ دیکھ کر کتاب بند کر دیتا، جب سبق سنتے تو حرف بحرف لفظ بہ لفظ سنا دیتا۔ روزانہ یہ حالت دیکھ کر سخت تعجب کرتے۔ ایک دن کہنے لگے: احمد میاں سچ سچ بتاؤ تم آدمی ہو یا جن؟ کیونکہ مجھے پڑھانے میں دیر لگتی ہے تمھیں یاد کرنے میں دیر نہیں لگتی۔ میں نے عرض کی: اللہ کا شکر ہے میں انسان ہی ہوں، ہاں اللہ پاک کا فضل و کرم شاملِ حال ہے۔"
(حوالہ: حیاتِ اعلٰی حضرت ۔حصہ اول، ص 12)
پہلا فتویٰ
امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے صرف 13 سال، 10 ماہ اور 4 دن کی عمر میں اپنے والد ماجد حضرت مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ سے تمام رائج علوم مکمل کیے اور سندِ فراغت حاصل کی۔
اسی دن ایک سوال کے جواب میں آپ نے اپنی زندگی کا پہلا فتویٰ تحریر فرمایا۔
آپ کے والد ماجد نے فتویٰ دیکھ کر اسے درست قرار دیا اور اسی وقت مسندِ افتاء آپ کے سپرد کر دی۔
اس کے بعد آپ زندگی بھر فتاویٰ تحریر فرماتے رہے۔
آپ کی عظیم علمی خدمت کا ایک حصہ 33 جلدوں پر مشتمل "فتاویٰ رضویہ" کی صورت میں آج بھی موجود ہے۔
مزید مطالعہ کے لیے۔۔۔
اگر آپ امام اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت و خدمات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو ان کتب و رسائل کا مطالعہ کیجئے:
● سیرتِ امام احمد رضا رحمۃ اللہٰ علیہ
● تذکرۂ امام احمد رضا رحمۃ اللہٰ علیہ
● شانِ امام احمد رضا رحمۃ اللہٰ علیہ
ان کے علا وہ اور بھی بہت سے رسائل اور کتابیں آپ مناسب قیمت میں مکتبۃ المدینہ سے حاصل کر سکتے ہیں۔
Pakistan