نمازِ جنازہ مسلمانوں پر ایک اہم اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس کے فضائل، احکام، طریقۂ ادائیگی اور متعلقہ دعائیں احادیثِ مبارکہ اور فقہِ اسلامی میں تفصیل سے بیان ہوئی ہیں۔ ذیل میں نمازِ جنازہ سے متعلق اہم معلومات پیش کی جارہی ہیں۔
نمازِ جنازہ کی فضیلت
کفن چور کا عبرت آموز واقعہ
ایک عورت کی نمازِ جنازہ میں ایک کفن چور بھی شریک ہوگیا۔ قبرستان پہنچ کر اس نے قبر کی جگہ یاد کرلی تاکہ رات کو کفن چُرا سکے۔ جب رات ہوئی تو اس نے قبر کھودی، مگر اچانک مرحومہ بول اُٹھی:
"سُبْحٰنَ اللہ! ایک بخشش کا حقدار شخص بخشی ہوئی عورت کا کفن چُراتا ہے! سن، اللہ پاک نے میری بھی مغفرت کردی اور اُن تمام لوگوں کی بھی جنہوں نے میرے جنازے کی نماز پڑھی اور تو بھی اُن میں شریک تھا۔"
یہ سن کر وہ فوراً قبر بند کرکے سچے دل سے توبہ کر بیٹھا۔
(حوالہ: شُعَبُ الْاِیمان،7/8، حدیث:9241)
قبر میں ملنے والا پہلا تحفہ
شُعَبُ الْاِیمان ج7، ص8، حدیث:9257 کے مطابق سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دریافت کیا گیا:
مومن کو قبر میں سب سے پہلا تحفہ کیا دیا جاتا ہے؟
آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:
"اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے والوں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔"
جنازے کے ساتھ چلنے کا ثواب
حضرتِ سیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:
"یا اللہ پاک! جو شخص صرف تیری رضا کے لیے جنازے کے ساتھ چلے، اس کی جزا کیا ہے؟"
اللہ کریم نے فرمایا:
"جس دن وہ مرے گا، فرشتے اس کے جنازے کے ساتھ چلیں گے اور میں اس کی مغفرت فرماؤں گا۔"
(حوالہ: شَرْحُ الصُّدُورص97)
اُحد پہاڑ کے برابر ثواب
حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:
جو شخص ایمان اور حصولِ ثواب کی نیت سے اپنے گھر سے جنازے کے ساتھ چلے، نمازِ جنازہ ادا کرے اور تدفین تک ساتھ رہے، اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے، جن میں سے ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔
اور جو صرف نمازِ جنازہ پڑھ کر واپس آجائے، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے۔
(حوالہ: مسلم، ص 472 حدیث 945)
نمازِ جنازہ کی ابتدا
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سب سے پہلا جنازہ کس کا پڑھا؟
نمازِ جنازہ کی ابتدا حضرتِ سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلام کے زمانے سے ہوئی۔ فرشتوں نے حضرتِ آدم عَلَیْہِ السَّلام کے جنازۂ مبارکہ پر چار تکبیریں پڑھی تھیں۔
اسلام میں نمازِ جنازہ کے وجوب کا حکم مدینۂ منورہ میں نازل ہوا۔
حضرتِ اَسعَد بن زُرار رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا وصال ہجرت کے بعد نویں مہینے کے آخر میں ہوا۔ آپ پہلے صحابی تھے جن کی نمازِ جنازہ نبیِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ادا فرمائی۔
(ماخوذ از فتاوٰی رضویہ، ج 5، ص 375)
نمازِ جنازہ کے احکام
نمازِ جنازہ فرضِ کفایہ ہے
نمازِ جنازہ فرضِ کفایہ ہے، یعنی اگر ایک شخص بھی ادا کرلے تو باقی سب اس ذمّے داری سے بری ہوجاتے ہیں، لیکن اگر کسی نے بھی ادا نہ کی تو جن لوگوں تک وفات کی خبر پہنچی تھی اور وہ شریک نہ ہوئے، سب گناہگار ہوں گے۔
اس نماز کے لیے جماعت شرط نہیں۔ اگر صرف ایک شخص بھی نمازِ جنازہ ادا کرلے تو فرض ادا ہوجاتا ہے۔
اس کی فرضیت کا انکار کفر ہے۔
(حوالہ: بہارِ شریعت ج 1، ص 825)
نمازِ جنازہ کے ارکان
نمازِ جنازہ کے دو رکن ہیں:
1. چار مرتبہ اللہُ اَکْبَرْ کہنا۔
2. قیام کرنا۔
(حوالہ: دُرِّمُختار، ج 3، ص 124)
نمازِ جنازہ کی سنتیں
نمازِ جنازہ میں تین سنتیں ہیں:
1. ثناء پڑھنا۔
2. درودِ شریف پڑھنا۔
3. میت کے لیے دعا کرنا۔
(حوالہ: بہارِ شریعت، ج 1، ص 829)
نمازِ جنازہ کا طریقہ (حنفی)
جنازہ پڑھنے کی نیت
مقتدی اس طرح نیت کرے:
"میں نیت کرتا ہوں اِس جنازے کی نماز کی، واسطے اللہ پاک کے، دُعا اِس میّت کے لئے، پیچھے اِس امام کے۔"
(حوالہ: فتاوٰی تاتارْخانِیَہ، ج 2، ص 153)
پڑھنے کا طریقہ
اس کے بعد امام اور مقتدی:
● کانوں تک ہاتھ اٹھائیں اور "اللہُ اَکْبَرْ" کہتے ہوئے ہاتھ ناف کے نیچے باندھ لیں۔
● اس کے بعد ثناء پڑھیں، جس میں "وَتَعَالٰی جَدُّکَ" کے بعد "وَجَلَّ ثَنَاؤُکَ وَلَا اِلٰـہَ غَیْرُکَ" بھی پڑھیں۔
● پھر ہاتھ اٹھائے بغیر "اللہُ اَکْبَرْ" کہیں اور درودِ ابراہیمی پڑھیں۔
● دوبارہ بغیر ہاتھ اٹھائے "اللہُ اَکْبَرْ" کہیں اور میت کے لیے دعا پڑھیں۔
امام تکبیریں بلند آواز سے کہے جبکہ مقتدی آہستہ آواز میں کہیں۔ باقی تمام اذکار امام اور مقتدی دونوں آہستہ آواز میں پڑھیں۔
دعا کے بعد:
● دوبارہ "اللہُ اَکْبَرْ" کہیں۔
● ہاتھ کھول دیں۔
● پھر دونوں طرف سلام پھیر دیں۔
سلام میں میت، فرشتوں اور نماز میں موجود افراد کی نیت کرے، جیسے دیگر نمازوں کے سلام میں نیت کی جاتی ہے۔ یہاں اضافی بات یہ ہے کہ میت کی نیت بھی شامل ہوگی۔
(حوالہ: بہارِ شریعت، ج 1، ص 829)
نمازِ جنازہ کی دعائیں
بالغ مرد یا عورت کے جنازے کی دعا
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَشَاھِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِیْرِنَا وَکَبِیْرِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا اَللّٰھُمَّ مَنْ اَحْیَیْتَہٗ مِنَّا فَاَحْیِہٖ عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّیْتَہٗ مِنَّافَتَوَفَّہٗ عَلَی الْاِیْمَانِ
ترجمہ:
الٰہی! ہمارے زندہ اور فوت شدہ، حاضر اور غائب، چھوٹے اور بڑے، مرد اور عورت سب کی مغفرت فرما۔ الٰہی! ہم میں سے جسے زندہ رکھ، اسلام پر زندہ رکھ، اور جسے وفات دے، ایمان پر وفات دے۔
(حوالہ: اَلْمُستَدرَک لِلْحاکِم /1684، حدیث 1366)
نابالغ لڑکے کے جنازے کی دعا
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ لَنَا فَرَطًا وَّاجْعَلْہُ لَنَا اَجْرًا وَّذُخْرًا وَّاجْعَلْہُ لَنَا شَافِعًا وَّمُشَفَّعًا
ترجمہ:
الٰہی! اس لڑکے کو ہمارے لیے آگے پہنچ کر سامان کرنے والا، اجر کا باعث، ذخیرہ اور ہماری سفارش کرنے والا بنا، اور اس کی سفارش قبول فرما۔
(حوالہ: کنزُالدّقائق، ص 52)
نابالغ لڑکی کے جنازے کی دعا
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہا لَنَا فَرَطًا وَّاجْعَلْہا لَنَا اَجْرًا وَّذُخْرًا وَّاجْعَلْہا لَنَا شَافِعَۃً وَّمُشَفَّعَۃً
ترجمہ:
الٰہی! اس لڑکی کو ہمارے لیے آگے پہنچ کر سامان کرنے والی، اجر کا باعث، ذخیرہ اور ہماری سفارش کرنے والی بنا، اور اس کی سفارش قبول فرما۔
(حوالہ: کنزُالدّقائق، ص 52)
نمازِ جنازہ سے متعلق اہم مسائل
جوتے پہن کر نمازِ جنازہ پڑھنے کا حکم
اگر جوتے پہن کر نمازِ جنازہ ادا کی جائے تو جوتوں اور زمین دونوں کا پاک ہونا ضروری ہے۔
اگر جوتے اتار کر انہی پر کھڑے ہوکر نماز پڑھی جائے تو جوتے کے تلے اور زمین کا پاک ہونا ضروری نہیں۔
امامِ اہلسنت اعلیٰ حضرت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
"اگر وہ جگہ پیشاب وغیرہ سے ناپاک تھی یا جن کے جوتوں کے تلے ناپاک تھے اور اس حالت میں جوتا پہنے ہوئے نماز پڑھی ان کی نماز نہ ہوئی، احتیاط یہی ہے کہ جوتا اُتار کر اُس پر پاؤں رکھ کر نماز پڑھی جائے کہ زمین یا تَلا اگر ناپاک ہو تو نماز میں خلل نہ آئے۔"
(حوالہ: فتاوٰی رضویہ،ج9ص188)
کیا غائبانہ نمازِ جنازہ ہوسکتی ہے؟
میت کا سامنے موجود ہونا ضروری ہے، اس لیے غائبانہ نمازِ جنازہ نہیں ہوسکتی۔
امام کا میت کے سینے کے سامنے کھڑا ہونا مستحب ہے۔
نمازِ جنازہ میں صفوں کی تعداد کتنی ہونی چاہیئے؟
بہتر یہ ہے کہ نمازِ جنازہ میں تین صفیں ہوں، کیونکہ حدیثِ پاک میں ہے:
"جس کی نمازِ جنازہ تین صفوں نے پڑھی اُس کی مغفرت ہوجائے گی۔"
اگر کل سات افراد ہوں تو:
● ایک شخص امام بنے۔
● پہلی صف میں تین افراد ہوں۔
● دوسری صف میں دو افراد ہوں۔
● تیسری صف میں ایک فرد کھڑا ہو۔
(حوالہ: غُنْیہ، ص 588)
جنازے میں پچھلی صف تمام صفوں سے افضل ہے۔
(حوالہ: دُرِّمُختار، ج 3، ص 131)
مزید معلومات کے لیے آج ہی خریدیئے
نمازِ جنازہ سے متعلق مزید تفصیلی معلومات کے لیے رسالہ "نمازِ جنازہ کا طریقہ" کا مطالعہ فرمائیں۔ یہ رسالہ مکتبۃ المدینہ ویب سائٹ سے یا قریبی آؤٹ لیٹ سے قیمتاً طلب فرمائیں۔
انگلش بولنے اور سمجھنے والوں کے لیے اس رسالے کا انگلش ورژن "Method of Funeral Salah" بھی دستیاب ہے۔
Pakistan